Sunday, 1 July 2018

اگلے 100 سالوں میں دنیا تباہ ہو جائے گی ؟

خیرہ کن سائنسی ترقی نے جہاں انسان کی زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے وہیں دنیا کی تباہی کے ممکنہ طریقوں کے امکانات کو بھی بہت حد تک بڑھا دیا ہے۔ مصنوعی ذہانت سے لے کر ایٹمی اسلحہ تک، انسان یقینا اپنے آپ کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے بہت سے طریقوں سے واقف ہوچکا ہے۔

حالیہ برسوں میں سائنس دانوں نے متعدد بار خبردار کیا ہے کہ دنیا کا خاتمہ قریب ہے اور شاید اگلے سو سال تک ہماری یہ دنیا اور اس کے ساتھ ساتھ ہم خود یعنی انسان بھی نیست و نابود ہوجائیں۔ کہا جاتا ہے کہ تیسری جنگ عظیم جو ایک ایٹمی جنگ ہوگی، اس دنیا اور انسانوں کو ختم کردے گی۔ اس وقت دنیا کے مختلف ممالک کے پاس 15,000 ایٹمی ہتھیار موجود ہیں جبکہ دنیا کو تباہ کرنے کے لیے صرف 50 تا 100 ایٹم بم ہی کافی ہیں۔ تو کسی ایٹمی حملے کے نتیجے میں یا فصلوں کو تباہ کرنے والے کسی وائرس اور یا پھر کسی وبائی مرض، آبادی کے بے ہنگم پھیلاؤ کی وجہ سے یا پھر بدلتے موسموں اور بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے پڑنے والا قحط اس تباہی کے باعث ہوں گے؟ خوراک اور پانی کے ذخائر اگر ختم ہوجائیں تو لازماً قحط پھوٹ پڑے گا جو انسانیت کے خاتمے کا باعث بن جائے گا۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا اور یہاں موجود زندگی کے اختتام کو صرف یہی خطرات لاحق ہیں یا ان کے علاوہ بھی کچھ ایسے امکانات موجود ہیں جو ایسی ہی تباہی لاسکتے ہیں۔ آئیے آج ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں۔

-1 غیر ارضی مخلوق سے رابطےCantacting Extraterrestrial Life)

SETI مخف ہے The Search For Extraterrestrial Life کا، جس کا مطلب ہے ’’غیر ارضی مخلوق کی تلاش‘‘۔ سائنس دان کسی دوسرے سیارے کی خلائی مخلوق سے رابطہ قائم کرنے کے لیے مسلسل خلا میں ریڈیائی سگنلز بھیج رہے ہیں۔ تاہم اسٹفن ہاکنگ جیسے چند سائنس دان اس عمل کو ایک خطرناک کھیل سمجھتے ہیں جو تمام نوع انسانی کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے کولمبس امریکہ پہنچا تو اس نے وہاں کی مقامی آبادی کے بڑے حصے کا صفایا کردیا۔ اگر کوئی خلائی مخلوق زمین پر آتی ہے تو غالب امکان یہ ہے کہ وہ ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی کرسکتی ہے۔

-2 زمبی اپوکلیپس (Zombie Apocalypse)

’’زمبی‘‘ اس مردے کو کہتے ہیں جو زندہ ہوگیا ہو۔ اس موضوع پر ہالی وڈ نے کئی فلمیں بھی بنائی ہیں۔ گو یہ خیال کہ مردے زندہ ہوکر آگئے اور انہوں نے باقی زندہ انسانوں کو مارنا شروع کردیا، محال ہی لگتا ہے تاہم ایسی سائنسی توجیہات موجود ہیں جن کے مطابق ’’زمبی‘‘ کی طرح کا خیالی تصور حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے۔ ’زندہ لاشوں‘ کے اس تصور کو سمجھنے کے لیے متعدد مثالیں دی جا سکتی ہیں، جیسے دماغ کے طفیلی کیڑے (جس کی ایک مثال گائیوں میں پائی جانے والی ’’میڈکاؤ‘‘ کی بیماری ہے)، نینوبوسٹس یعنی انسانی خلیے کے حجم کا وہ خود مختار روبوٹ جو اکیلا یا بہت بڑی تعداد میں انسانی جسم میں داخل کرکے اس سے کوئی اہم کام سرانجام دلوایا جاسکے۔ (ایسے روبوٹس کا ابھی باقاعدہ استعمال شروع نہیں ہوا) اور نیوروٹاکسن یعنی عصبی خلیوں میں پیدا ہوجانے والے زہریلے مادے۔ یہ وہ حقیقتوں ہیں جن کے ذریعے اس معاملے کو آسانی کے ساتھ سمجھا جاسکتا ہے۔ ان تینوں چیزوں میں سے کوئی ایک شے بھی انسان کو پاگل بنانے کا باعث بن سکتی ہے اور پھر ایسا انسان طیش میں آکر دیگر انسانوں کو قتل کرنا شروع کرسکتا ہے۔ سو، ضروری نہیں کہ یہ تصور محض تخیل ہی ہو، بلکہ یہ حقیقت بھی بن سکتا ہے۔

-3 کرہ ارض کے قطبین کی تبدیلی(Earth Pole Shift)

چند سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اگر زمین نے کبھی اپنے قطبین یعنی قطب شمالی اور قطب جنوبی کی پوزیشنز کو تبدیل کیا تو یہ عمل انسانوں کو خلا سے آنے والے مردہ ذرات کے سامنے غیر محفوظ بنادے گا اور یہ چیز انسانیت کی مکمل تباہی کے لیے کافی ہے۔ خیال یہ کیا جاتا ہے کہ یہی عمل مریخ پر بھی وقوع پذیر ہوا تھا۔ اس کے نتیجے میں اس کا مقناطیسی میدان کمزور پڑگیا اور یوں اس کا کرۂ فضائی شمسی ہواؤں سے بھرگیا۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ایسا ہی ہماری زمین کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔

-4 خلائی بستیوں کی بغاوت(Space Colony Uprising)

امید ہے کہ خلائی بستیاں انسانوں کا ممکنہ مستقبل ہیں۔ ناسا (NASA) پہلے ہی سے اس پروجیکٹ پر کام کررہا ہے اور اس مقصد کے لیے مریخ کو چنا گیا ہے۔ چاند پر بستی بسانا بھی اسی منصوبے کا ایک حصہ ہے۔ یہ خلائی بستیاں زمین پر انسانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی اور کوڑے کرکٹ کو کم کرنے کا ایک بہترین حل ہوسکتی ہیں مگر یہ کرۂ ارض کے لیے ایک مسئلے کا باعث بھی بن سکتی ہیں اور وہ یہ کہ اگر کسی خلائی بستی نے بغاوت کردی اور زمین پر ایٹمی حملہ کردیا تو پھر کیا ہوگا؟ کیونکہ ان خلائی بستی والوں کو تو اپنے ناپید ہوجانے کا کوئی اندیشہ یا ڈر خوف ہوگا نہیں۔ کیا خیال ہے یہ ملین ڈالر کا سوال ہے یا نہیں؟

-5 مصنوعی ذہانت(Artificial Intelligence)

کمپیوٹرز اور مصنوعی ذہانت کے حامل روبوٹس پہلے ہی ہزاروں انسانوں کی نوکریوں پر قابض ہوچکے ہیں اور دکھائی یہ دیتا ہے کہ مستقبل میں انسانوں کے لیے زیادہ نوکریاں نہیں بچیں گی۔ بس ایک مرتبہ کمپیوٹرز کے ذی شعور اور انسانوں کی طرح جذبات اور محسوسات کو سمجھ سکنے کے حامل ہونے کی دیر ہے پھر بقول ’’ایلون مسک‘‘ (Elon Musk) اور اسٹیفن ہاکنگ جیسے دوعظیم سائنس دانوں کے، اس وقت انسانیت کا خاتمہ ہوجانے کا قوی خطرہ موجود ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے موٹر گاڑیوں کے آنے سے گھوڑے کی مسلمہ اہمیت ختم ہوکر رہ گئی تھی۔ اس بارے میں نظریہ یہ ہے کہ انسانوں اور مصنوعی ذہانت کے حامل کمپیوٹرز کا باہمی ملاپ ہوجانے سے یہ کمپیوٹرز ہم انسانوں سے زیادہ طاقتور اور ذہین ہو جائیں گے اور یہ انسانوں کو اپنے ساتھ ایک وسیع تر جنگ میں جھونک دیں گے۔

-6 مسکنوں کی تباہی(Habitat Destruction)

انسانی آبادیوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی کھپت، جنگلی حیات کے مسکنوں کو مسلسل تباہ و برباد کررہی ہے۔ اس میں سمندر، جنگل، صحرا اور پہاڑ سب جگہیں شامل ہیں جو انسانی دست برد سے بچ نہیں پارہیں۔ جنگلی حیات کے ان مسکنوں کی تباہی کے ذریعے ہم انسان بڑی تیزی سے جنگلی حیات کی بہت سی اقسام اور نسلوں کو معدوم ہو جانے کے خطرے کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ اس سے قدرت کی طرف سے ہمارے کرہ ارض میں قائم شدہ حیاتیاتی سائیکل کا توازن بگڑنے کا اندیشہ ہے جویہاں پر زندگی کو رواں دواں رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ اگر یہ توازن خراب ہوجاتا ہے تو یہ مشکلات اور مصیبتوں کی ایک پوری پوٹ کو دعوت دینے کے مترادف ہے، جن میں قحط سالی سے لے کر عالمی معیشت کے انہدام تک بہت سی چیزیں شامل ہیں۔

-7 سورج کا بجھ جانا (Solar Shut Down)

ویسے تو سائنس دانوں کا ماننا یہ ہے کہ سورج پانچ بلین سال تک یونہی چمکتا دمکتا رہے گا اور دوسرے سیاروں کے ساتھ ساتھ ہماری زمین کو بھی ایک بلین برس تک حرارت مہیا کرتا رہے گا جو یہاں پر موجود زندگی کی بقا کے لیے ازحد ضروری چیز ہے۔ تاہم یہ امکانات بھی ہمیشہ سے موجود رہے ہیں کہ اندازوں کے برعکس سورج کی موت قبل از وقت ہی وقوع پذیر ہوجائے۔ اس خطرے کی وجہ یہ ہے کہ سورج اکثر و بیشتر اچانک ہی اپنے اوسط درجہ حرارت کی نسبت کچھ ٹھنڈا پڑجاتا ہے۔ اگر کبھی ایسا ہوا کہ سورج ٹھنڈا ہی ہوتا چلا گیا اور دوبارہ گرم نہ ہوا تو یقینا زمین پر حیات منجمد ہوکر رہ جائے گی اور یوں سورج کے ساتھ ساتھ ہمارا یہ پیارا سیارہ بھی بجھ کر رہ جائے گا۔

-8 عظیم الشان آتش فشاں(Super Volcano)

ایسا لگتا ہے کہ ہم ایک ٹک ٹک کرتے ہوئے ٹائم بم پر بیٹھے ہیں جس کا نام ’’ارتھ کور‘‘ (Earth’s Core) یعنی زمین کا اندرونی مرکزی حصہ ہے جو ابھی بھی انتہائی گرم ہے۔ آج سے تقریباً 75,000 سال پہلے زمین کے اس مرکزی حصہ سے گرم گرم لاوا بہت شدت کے ساتھ زمین کی بیرونی سطح (جو اس وقت زیادہ تر سمندری پانی پر مشتمل تھی) کو پھاڑ کر باہر نکلا اور اس نے  ٹھنڈا ہونے پر سخت ہوکر زمین کی شکل اختیار کرلی تھی۔ اسی جگہ

پر آج کل موجودہ بھارت واقع ہے۔ اس واقعہ نے مگر زمین پر بسنے والی تقریباً 95% انواع کا صفایا کردیا۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ اگلے 80 سالوں میں ایسا ہی ایک اور واقعہ رونما ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ خوش قسمتی سے آج ہم سائنسی لحاظ سے اس قابل ہیں کہ اگر ایسا کچھ ہوتا ہے تو ہمیں قبل از وقت ہی اس کے متعلق پتا چل جائے گا کیونکہ امریکا کا جیولاجیکل سروے ڈیپارٹمنٹ اس تمام تر صورت حال پر پوری طرح سے نظر رکھے ہوئے ہے، لیکن یہ ضرور ہے کہ آئندہ اس طرح کے کسی واقعہ کے رونما ہونے کی صورت میں بہرحال زمین پر موجود زندگی بڑے پیمانے پر اجڑ جائے گی۔

-9 روکے نہ جاسکنے والے وبائی امراض (Unstoppable Panemic)

چاہے یہ SARS (سانس گھٹنے کی وبائی بیماری) ہو یا H1 N1 (زکام کی ایک شدید قسم)، ’’ایبولا (Ebola) (اندرونی و بیرونی اخراج خون کا وبائی مرض جس کا اثر گردوں اور جگر پر ہوتا ہے) ہو یا ’’زیکا‘‘ Zika وائرس (جو ڈینگی کی طرح کا ایک وبائی بخار ہے) ہو، اس بات کا قوی امکان ہے کہ کوئی وبائی مرض پھوٹ پڑے جسے بدقسمتی سے ہم روکنے کے لیے پوری طرح تیار ہی نہ ہوں۔

آج اکثر امراض انٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بالفرض کوئی مرض ہماری ادویات کے خلاف مدافعتی نظام بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور وہ جنگل کی آگ کی طرح پھیلانا شروع ہوجاتا ہے تو یقینا وہ ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے کر اتھل پتھل کر دے گا۔ اس کی وجہ سے معیشت کا بھٹہ بیٹھ جائے گا اور سماجی زندگی کا بیڑا غرق ہوجائے گا۔ لوگ اپنے اپنے علاقوں میں محصور اور اپنے گھروں میں قید ہوکر رہ جائیں گے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس مرض کے متاثرین کے علاوہ ان دیگر عوامل کی وجہ سے فسادات پھوٹ پڑیں گے، ہر طرف افراتفری اور بے چینی پھیل جائے گی اور جنگیں شروع ہوجانے کا بھی اندیشہ ہے جن کی وجہ سے مزید لوگ موت کا شکار ہوجائیں گے۔

-10 بڑھتی ہوئی آبادی (Overpopulation)

ہماری زمین پر پائے جانے والے وسائل محدود ہیں، جنہیں انسان بڑی بے دردی کے ساتھ بے دریغ خرچ کررہا ہے۔ ایک ایوارڈ یافتہ سائنس دان کا دعویٰ ہے کہ زمین پر بڑھتی ہوئی آبادی یقینا ہمیں لے ڈوبے گی۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہونے والی روز افزوں ترقی اس کی ایک اہم وجہ ہے، جس کی بدولت انسانوں کی اوسط عمر میں کافی اضافہ ہوگیا ہے۔ دنیا کی کل آبادی اس وقت تقریباً سات ارب کے قریب ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ جب نو ارب سے تجاوز کرجائے گی تو ہر انسان کے لیے خوراک مہیا ہونا بہت مشکل ہوگا۔ وسائل کی کمی کے باعث معیشت مفلوج ہوجائے گی اور یہ صورتحال بالآخر دنیا بھر میں بھوک کے ایک بھیانک عفریت کو جنم دے گی جو دنیا کے خاتمے کا باعث بن سکتا ہے۔

-11 نینوٹیکنالوجی کی آفت(Nanon Technology Disaster)

نینوٹیکنالوجی وہ صلاحیت ہے کہ جس کے ذریعے ایک ایٹمی ذرے جتنے چھوٹے کمپیوٹرز بنائے جاسکتے ہیں۔ سائنس دان اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے پر کام کررہے ہیں تاکہ ان کمپیوٹرز کو انسانی جسم میں داخل کر کے اس کے امیون سسٹم یعنی مدافعتی نظام کو مدد دے کر کینسر اور دیگر موذی امراض کا علاج کیا جاسکے۔ دوسرے کئی سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ ننھے کمپیوٹرز اور بھی کئی مقاصد اور چیزیں بنانے کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ابتدائی کام اور تحقیق جاری ہیں۔

دوسری طرف بہت سے سائنس دان ایسے بھی ہیں جن کا ماننا یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی سب کچھ لپیٹ دے اور اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو بھسم کردے کیونکہ جس طرح انسان مصنوعی ذہانت والے روبوٹس اور کمپیوٹرز بنانے کے لیے کوشاں ہے اور نت نئے تجربات اس ضمن میں کیے جارہے ہیں ان میں یہ تجربہ بھی شامل ہے کہ انسانی جین اور مشین کے اختلاط سے ایک انسان نما روبوٹ یا کمپیوٹر تخلیق کیا جائے جس میں انسان اور کمپیوٹر دونوں کی خصوصیات ہوں اور وہ باقاعدہ اپنی نسل کو بھی آگے بڑھاسکے۔ سو، خطرہ یہ ہے کہ یہ انسان نما کمپیوٹر خودمختار ہو کر بے قابو ہو جائے اور یہ تمام عمل دنیا کی تباہی کا سبب بن جائے۔ تاہم سائنس دان یہ سمجھتے ہیں کہ یہ نظریہ تکنیکی طور پر ممکن ہے اور یقینا ٹیکنالوجی انسانی زندگی کے لیے آسانیوں کی حامل ہوسکتی ہے۔

-12 شہاب ثاقب کے اثرات(Asteroid Impact)

کسی شہاب ثاقب کا زمین سے ٹکرا جانا دنیا کے خاتمے کا وہ پہلا حقیقی خطرہ ہے جو اس امکان میں حقیقت کا رنگ بھرنے کی موثر صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ خلا کے اندر تیرتے بے شمار شہاب ثاقب کسی بھی وقت ہماری زمین کا رخ کرسکتے ہیں اور ان کو روکنے کا کوئی بھی طریقہ موجود نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہزاروں سال پہلے شہاب ثاقبوں کے زمین پر گرنے کی وجہ سے ہی ڈائنوسارز کی نسل دنیا سے نیست و نابود ہوگئی تھی۔ اسی لیے اب بھی اگر کوئی شہاب ثاقب زمین سے ٹکرایا تو یہ نا صرف انسان بلکہ یہاں بسنے والی دوسری مخلوقات کو بھی تباہ و برباد کردے گا۔

بدقسمتی سے ہالی وڈ والے ایسے موضوعات پر فلمیں بنانا تو بہت پسند کرتے ہیں لیکن ان فلموں میں وہ اس خطرے کا حل یہ دکھاتے ہیں کہ ان شہاب ثاقبوں کو خلائی اسٹینوں میں موجود خلا بازوں کی مدد سے یا پھر زمین سے خلا میں مار کرنے والے ایٹمی میزائلوں کے ذریعے خلا میں ہی تباہ کرکے اس مسئلے کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ’’ناسا‘‘ کے پاس زمین کی طرف بڑھتے ہوئے کسی شہاب ثاقب کو روکنے کا کوئی طریقہ موجود نہیں ہے۔ اگر کوئی شہاب ثاقب زمین کی طرف بڑھے تو پھر ہم کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ ہاں، اچھی بات مگر یہ ہے کہ کسی شہاب ثاقب کے زمین سے ٹکرانے کے امکانات بہت ہی کم ہیں۔

-13 گاما شعاعوں کا پھوٹ پڑنا (Gamma Ray Burst)

گاما شعاعوں کی پھوار توانائی کی ایک انتہائی تیز رفتار، طاقتور اور منہ زور ندی کی مانند ہوتی ہے جو ایٹمی ذرات تک کو تباہ کرنے کے قابل ہوتی ہے۔ یہ بنیادی طور پر اپنے راستے میں آنے والی کسی بھی چیز کو ختم کردینے کی اہلیت رکھتی ہے۔ سورج سے گاما شعاعوں کی ہلکی ہلکی پھوار ہر وقت پھوٹتی رہتی ہے مگر زمین کے اردگرد موجود غلاف، جسے ’’اوزون‘‘ کہتے ہیں اس پھوار کو روکنے کے لیے ایک عمدہ ڈھال کا کردار ادا کرتی ہے۔ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ انسان اپنی صنعتی ترقی اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی تعیشات کے حصول کے لیے اس انتہائی ضروری اور اہم حفاظتی حصار یعنی اوزون کو کمزور کرنے پر تلا ہوا ہے۔

فرض کریں کہ اگر ہم سے ایک ہزار نوری سالوں کے فاصلے پر موجود کوئی ستارہ ٹوٹ کر کسی بلیک ہول میں جاگرتا ہے تو اس کے نتیجے میں گاما شعاعوں کا بڑے پیمانے پر اخراج ہوسکتا ہے اور اگر ان شعاعوں کا رخ ہماری زمین کی طرف ہوجائے تو یہ ناصرف ہماری زمین بلکہ ہماری پوری کہکشاں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے کافی ہے۔ خطرناک بات یہ ہے کہ اگر خدانخواستہ ایسا کچھ ہوتا ہے تو ہمارے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں ہے جو ہمیں بروقت اس خطرے سے آگاہ کرسکے۔ جب تک ہمیں اس بات کا علم ہوگا اس وقت تک بہت دیر ہوچکی ہوگی لیکن خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات رونما ہونے کے امکانات بھی بہت قلیل ہیں۔

-14 جنیاتی طور پر ترمیم شدہ غیر معمولی انسان (Genetically Modified Superhumans)

جنیاتی انجینئرنگ کے کمالات کا سورج طلوع ہوتے ہی سائنس دان تمام نومولود بچوں میں جیناتی تبدیلی کرکے انہیں آج کے انسان کے مقابلے میں مزید ہوشیار تر، تیز و طرار، ذہین و فطین اور مضبوط ترین روپ دینا شروع کردیں گے۔ یہ نئی نسل انسانی جو بہت ذہین اور غیر معمولی ہوگی، یقینی طور پر نوع انسانی کے اپنے ان ہم نسلوں کو جو ان کے مقابلے میں پسماندہ ہوں گے، ناکارہ اور دھرتی پر بوجھ سمجھتے ہوئے آہستہ آہستہ ختم کردیں گے تاکہ ان جیسی غیر معمولی صلاحیتیں رکھنے والی نئی نسل انسانی کے لیے جگہ بن سکے اور صرف وہی زمین کے وسائل سے فائدہ اٹھاسکیں کہ یہی نظر ارتقاء کا اصول ہے۔

-15 موسمیاتی تبدیلیاں (Climate Change)

اچھی بات یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے مضمرات کا ادراک دنیا کے بیشتر سائنس دانوں کے علاوہ عالمی لیڈروں کے دل و دماغ میں موجود ہے۔ دنیا کو لاحق خاتمے کے خطرات کی فہرست میں سب سے پہلا نمبر موسمیاتی تبدیلیوں کو حاصل ہے۔ تاہم چند سائنس دان پر امید ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اس عمل کو دھیما یا کم کیا جاسکتا ہے اور شاید ممکنہ طور پر الٹ یا واپس بھی کیا جاسکتا ہے جبکہ دوسرے سائنس دانوں کے خیال میں یہ سب کچھ عبث ہے اور بہت دیر ہوجانے کی وجہ سے اب اس معاملے کو سدھارنے کے لیے زیادہ کچھ نہیں کیا جاسکتا لیکن اگر موسمیاتی تبدیلیوں کو روکنے کی کوششیں نہ کی گئیں تو موسموں کے مزید شدید ہونے، خشک سالی، قحط اور ان سب کے نتیجے میں ہونے والی جنگلوں سے بچنا محال ہوگا اور یہ سب بد سے بدتر ہوتا چلا جائے گا۔ یہاں تک کہ نسل انسانی اس کرۂ ارضی سے معدوم و ناپید ہوجائے گی۔

zeeshan.baig@express.com.pk

The post اگلے 100 سالوں میں دنیا تباہ ہو جائے گی ؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2KqWkYo
via IFTTT

حالات کی ٹھوکروں سے ’’کِک‘‘ لگانے تک

روس کے میدانوں میں دنیائے کھیل کی عظیم ترین جنگ لڑی جارہی ہے۔ اس معرکے میں بتیس ممالک کے دستے شریک ہیں۔

ہر دستے میں شامل ’سپاہی‘ زندگی کے نشیب و وفراز سے گزرتے ہوئے اس مقام تک پہنچے ہیں جہاں انھیں اپنے ملک کی جانب سے ’لڑنے‘ کا اعزاز حاصل ہوا۔ تاہم اس معرکے میں شامل کچھ ’سپاہی‘ ایسے ہیں جنھیں اپنی زندگی میں انتہائی نامساعد حالات کا سامنا رہا، مالی مشکلات ، غربت، گھریلو مسائل، اور بے سروسامانی نے ان کا خوب خوب امتحان لیا۔ وہ فٹ پاتھ پر راتیں گزارنے اور گزر اوقات کے لیے چھوٹے موٹے کام کرنے پر مجبور ہوئے، کچھ کو والدین کے باہمی جھگڑوں نے جذباتی دھچکے پہنچائے۔ تاہم اپنے مقصد کی راہ میں حائل ہونے والی ہر رکاوٹ کا انھوں نے پامردی سے مقابلہ کیا اور بالآخر اپنے خوابوں کو تعبیر دینے میں کام یاب ہوگئے۔ ذیل کی سطور میں کچھ ایسے ہی باہمت ’سپاہیوں‘ کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔

1 ۔  جیکب بلاشٹی کوفسکی (پولینڈ)

جیکب دس برس کا تھا جب ایک شب اسے اپنی زندگی کے بھیانک ترین واقعے کا شاہد بننا پڑا۔ اس کے والدین کے درمیان لڑائی جھگڑا معمول بن چکا تھا۔ آئے دن کی چخ چخ اور مارکٹائی اس کی نفسیات پر منفی اثرات مرتب کررہی تھی۔ پھر جب ایک رات اس نے اپنے باپ کو ماں پر خنجر سے حملہ آور ہوتے دیکھا تو اس کے اوسان خطا ہوگئے۔ جیکب کی ماں کے قتل کے جُرم میں اس کے باپ کو پندرہ سال کی جیل ہوگئی، یوں وہ ماں کی ممتا کے ساتھ ساتھ شفقت پدری سے بھی محروم ہوگیا۔

ان واقعات کے بعد جیکب اور اس کے بڑے بھائی کو ان کی دادی نے کفالت میں لے لیا۔ یہاں خوش قسمتی سے جیکب کو اپنے چچا کا ساتھ میسر آگیا جو پولینڈ کی قومی فٹبال ٹیم کے کپتان تھے۔ فٹبال کھیلنے کا شوق جیکب کو شروع ہی سے تھا۔ چچا نے اس کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ تمام تلخ یادیں فراموش کرکے صرف اپنے کھیل پر توجہ دے۔ چچا کی حوصلہ افزا باتوں نے جیکب کے اندر نئی روح پھونک دی۔ اس نے فٹبال کی تربیت لینی شروع کی، ساتھ ہی ساتھ خود کو ذہنی طور پر مضبوط کرنے اور تلخ ماضی سے پیچھا چھڑانے کے لیے ماہرنفسیات سے بھی رجوع کیا۔ یہاں سے اس کی زندگی نے ایک نیا موڑ لیا۔ اور کئی برس بعد ان دنوں وہ ورلڈ کپ میں اپنے ملک کی نمائندگی کررہا ہے۔

2 ۔  روبرٹو فرمینو (برازیل)

برازیلی دستے میں مڈفیلڈر کی پوزیشن پر کھیلنے والے فرمینو کی اس کھیل میں آمد معجزے سے کم نہیں تھی، کیوں کہ اس کا خاندان اسے فٹبال کے میدان کے بجائے پڑھائی میں مصروف دیکھنے کا متمنی تھا۔ تازہ انٹرویو میں فرمینو نے انکشاف کیا ہے کہ ’’میرے والدین نہیں چاہتے تھے کہ میں کھیل کود میں وقت ضایع کروں، ان کی دیرینہ خواہش تھی کہ میں تعلیم حاصل کرکے بڑا آدمی بنوں، جب کہ مجھے فٹبال کھیلنے کا جنون تھا۔ تنگ آکر کبھی کبھی وہ مجھے کمرے میں بند کرکے باہر سے تالا لگادیتے تھے مگر میں پھر بھی باز نہیں آتا تھا۔ ہمارے گھریلو حالات بے حد خراب تھے۔ گزربسر کے لیے والدین ناریل کا پانی فروخت کرتے تھے۔ اس کام میں، میں بھی ان کا ہاتھ بٹادیا کرتا تھا، مگر فٹبال سے دوری مجھے پھر بھی گوارا نہیں تھی۔‘‘

بالآخر قسمت روبرٹو پر مارسیلس پورٹیلا کی صورت میں مہربان ہوئی۔ وہ ڈینٹسٹ تھا۔ اس نے مقامی کلبوں کے درمیان ایک میچ میں روبرٹو کو کھیلتے ہوئے دیکھا۔ فٹبال کا رسیا مارسیلس بھانپ گیا کہ اس لڑکے میں ایک اچھا کھلاڑی بننے کی صلاحیت موجود ہے۔ مارسیلس نے روبرٹو کو اس کا ایجنٹ بننے کی پیش کش کردی۔ مختلف کلبوں کی جانب سے کھیلتے ہوئے آخرکار وہ قومی ٹیم کا حصہ بننے میں کام یاب ہوگیا۔

3 ۔  گیبریل جیسس (برازیل)

2014ء کا ورلڈ کپ برازیل میں منعقد ہوا تھا۔ مانچسٹر سٹی کا یہ اسٹار اس وقت کلب کی ٹیم کا حصہ ضرور تھا مگر فرسٹ ڈویژن کے مقابلوں میں اس کی آمد نہیں ہوئی تھی۔ کلب کی طرف سے اسے برائے نام معاوضہ ملتا تھا جس سے گزراوقات ممکن نہیں تھی۔ چناں چہ گیبریل روزی روٹی کے لیے محنت مزدوری اور چھوٹے موٹے کام کیا کرتا تھا۔ ورلڈکپ کے دوران اسے ساؤ پالو میں اسٹیڈیم کے اطراف کے راستوں پر پینٹ کرنے کی عارضی ملازمت مل گئی تھی۔

اس کے پاس اتنی رقم نہیں تھی کہ چپل ہی خرید سکتا، چناں چہ وہ برہنہ پا ساؤ پالو کی سڑکوں پر برش اور رنگ کا ڈبّا ہاتھ میں لیے صبح سے رات گئے تک کام میں مصروف رہتا تھا۔ اس وقت گیبریل سترہ سال کا تھا۔ باپ نے بہت پہلے گیبیرل اور اس کی ماں سے قطع تعلق کرلیا تھا۔ گیبریل کی پرورش اس کی ماں نے کی تھی۔ چار سال میں گیبیرل کی زندگی بدل چکی ہے۔ 2014ء کے ورلڈ کپ میں وہ اسٹیڈیمز کے باہر ننگے پاؤں اطراف کے راستوں کو رنگا کرتا تھا، اب اس کے پاؤں میں ہزاروں یورو مالیت کے جوتے نظر آتے ہیں اور وہ اسٹیڈیم کے اندر اپنے ملک کی نمائندگی کررہا ہے۔

4 ۔  علی رضا بیران وند (ایران)

علی رضا گول کیپر ہیں۔ ورلڈ کپ تک ان کی رسائی کے پس پردہ طویل جدوجہد ہے۔ علی رضا کی پیدائش خانہ بدوشوں کے گھر میں ہوئی تھی جن کی گزراوقات کا ذریعہ مال مویشی تھا۔ علی رضا کا بچپن اور لڑکپن مویشی چَراتے ہوئے گزرا تھا۔ اسے فٹبال کھیلنے کا شوق تھا۔ اس شوق کی تکمیل کے لیے اس نے بڑی قربانیاں دیں۔ اہل خانہ سے دوری اختیار کی، کئی برس اس نے خانہ بدوشی کی حالت میں سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر شب بسری کرتے ہوئے گزارے۔ والد اسے فٹبال کھیلنے سے روکتے تھے، چناں چہ اپنے خوابوں کو تعبیر دینے کے لیے وہ گھر سے بھاگ کر تہران آگیا۔ یہاں اس نے ریستورانوں میں بیراگیری سے لے کر، گاڑیاں دھونے تک بے شمار چھوٹے موٹے کام کیا۔ اس دوران اس کی راتیں فٹ پاتھ پر گزرتی تھیں۔ دن میں وہ مقامی کلب کی جانب سے کھیلتا تھا۔ آخرکار علی رضا کی جدوجہد رنگ لانے لگی اور وہ تہران کے ایک بڑے فٹبال کلب نفت نوین کی ٹیم میں شامل ہوگیا۔ اور آج وہ اپنے ملک کی نمائندگی کرنے کے لیے روس میں موجود ہے۔

5 ۔  ڈیلے ایلی (انگلستان)

ڈیلے ایلی کا بچپن پیچیدہ حالات میں گزرا۔ ڈیلے کا باپ ایک نائجیرین قبیلے کا متمول شہزادہ تھا۔ بیٹے کی پیدائش سے ایک ہفتہ قبل وہ اپنی بیوی کو چھوڑ کر چلا گیا۔ ڈیلے کی پرورش ماں نے کی، مگر ماں بھی مے نوشی کی عادی تھی چناں چہ ڈیلے کو صحیح توجہ نہ مل سکی۔ وہ آواراہ لڑکوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے لگا جو منشیات کا استعمال اور جرائم کا ارتکاب کرتے تھے۔ بری صحبت کے باوجود ڈیلے کو فٹبال کھیلنے سے دل چسپی تھی۔ ڈیلے کا کہنا ہے کہ فٹبال کا کھیل اسے سایہ دار شجر کے مانند محسوس ہوتا تھا جس کی چھاؤں میں پہنچ کو وہ گردش دوراں کی دھوپ سے پناہ حاصل کرلیتا تھا۔ آج وہ ایک معروف کھلاڑی اور قومی ٹیم کا رکن ہے۔

6 ۔  جوآن گلرمو کواڈراڈو (کولمبیا)

یہ 1992ء کی بات ہے جب کولمبیا میں خانہ جنگی عروج پر تھی۔ اس وقت جوآن گلرمو چار سال کا تھا۔ ایک روز ان کے قصبے پر مسلح افراد کے ایک گروپ نے دھاوا بول دیا۔ ان کی اندھادھند فائرنگ کی زد میں جوآن کا باپ بھی آگیا۔ جوآن نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے زخمی باپ کو موت کے بے رحم جبڑوں میں جاتے ہوئے دیکھا۔ اس حملے میں دیگر دیہاتیوں کے ساتھ جوآن اور اس کی ماں بھی بچ گئے تھے۔ ماں اسے ساتھ لے کر قصبے سے فرار ہوگئی۔ اس نے اپنے بیٹے کی پرورش کے لیے محنت مزدوری شروع کردی۔ لڑکپن کی حدود میں قدم رکھنے کے بعد جوآن بھی ماں کا سہارا بن گیا۔ محنت مزدوری کے ساتھ وہ فٹبال بھی کھیلنے لگا تھا۔ زندگی کے نشیب وفراز سے گزرتے ہوئے آج وہ اپنے عروج پر ہے۔

7 ۔  وکٹر موسس (نائجیریا)

وکٹر کے والد پادری اور ماں گھریلو خاتون تھیں۔ ملک میں جاری خانہ جنگی کی لہر وکٹر کو یتیم و مسکین کرگئی۔ 2002ء میں حملہ آوروں نے گھر میں گُھس کر پادری اور اس کی بیوی کو قتل کردیا تھا۔ ان لمحات میں ان کا گیارہ سالہ بیٹا اپنے دوستوں کے ساتھ گلی میں فٹبال کھیل رہا تھا۔ اس واقعے کے بعد وکٹر نے کئی برس بے سر و سامانی کے عالم میں گزارے اور پھر انگلینڈ میں سیاسی پناہ کی درخواست دائر کردی۔ بدترین حالات میں بھی فٹبال سے اس کا ناتا نہیں ٹوٹا جس کے صلے میں آج وہ فٹبال کے عالمی مقابلوں میں اپنے آبائی وطن کی نمائندگی کررہا ہے۔

8 ۔  لوکا موڈرک (کروشیا)

کروشیا میں جنگ کا آغاز 1991ء میں ہوا تھا۔ چار سال جاری رہنے والی جنگ 1995ء میں اختتام پذیر ہوئی۔ اس وقت لوکا کی عمر محض پانچ سال تھی۔ لوکا کا باپ کروشین فوج میں سپاہی تھا۔ لوکا کا باپ اور داد اس جنگ کی نذر ہوگیا اور ماں اپنے بیٹے کے ساتھ جنگ زدہ شہر سے ہجرت کرگئی۔ وہ کئی برس تک پناہ گزینوں کے کیمپ میں رہے جہاں لوکا نے فٹبال کھیلنے کا آغاز کیا۔ وہ دوسرے بچوں کے ساتھ کیمپ کے کچے راستوں پر فٹبال کھیلتا تھا۔ لوکا کا کہنا ہے کہ ماضی کی یہ یادیں اس کے لیے بے حد تکلیف دہ ہیں اور وہ انھیں دہرانا نہیں چاہتا۔

9 ۔  جیمی ورڈے (انگلستان)

سولہ سالہ جیمی کو قد چھوٹا ہونے کی بنا پر شیفلڈ وینزڈے نامی کلب نے اپنی ٹیم کا حصہ بنانے سے انکار کردیا تھا۔ اس انکار سے جیمی کو شدید دھچکا لگا تھا، کیوں کہ اسے قوی امید تھی کہ اس کی درخواست منظور کرلی جائے گی اور اسے گزراوقات کا معقول ذریعہ میسر آجائے گا، تاہم یہ امید ٹوٹ گئی۔ وہ ایک بار پھر چھوٹی ٹیموں میں شامل ہوکر فٹبال کھیلنے اور ریستورانوں اور فیکٹریوں میں عارضی ملازمتیں کرنے پر مجبور ہوگیا۔ اس دوران وہ لڑائی جھگڑوں میں بھی ملوث ہوگیا۔ اسے تھانے جانا پڑا جہاں اسے تنبیہہ کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ جیمی کی قسمت اس وقت بدلی جب اسے ایک بڑے کلب لیشسٹر کی ٹیم کا حصہ بنا لیا گیا۔ یہاں جیمی کا غیرمعمولی ٹیلنٹ کُھل کر سامنے آیا، اور آج وہ قومی ٹیم کی نمائندگی کررہا ہے۔

10 ۔  کارلوس باکا (کولمبیا)

کارلوس اپنی کہانی اپنی زبانی اس طرح بیان کرتے ہیں،’’میرا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے۔ بیس سال کی عمر میں میں اپنے قصبے پورٹو کولمبیا میں ایک بس پر کنڈکٹری کرتا تھا۔ اس سے پہلے بہت سے چھوٹے موٹے کرتا رہا تھا۔ بعد میں بس ڈرائیور ہوگیا۔ مالی مشکلات کے باعث فٹبال سے کئی برس پہلے دور ہونا پڑا تھا، ڈرائیوری ملنے کے بعد کچھ حالات بہتر ہوئے تو یہ پرانی محبت دوبارہ سر اٹھانے لگی۔ میں نے کھیلنا شروع کیا۔ جونیئر سطح کی فٹبال کے لیے ٹیسٹ دیے اور کام یاب رہا۔ پھر خدا کی مہربانی سے آگے بڑھتا چلا گیا اور آج آپ کے سامنے ہوں۔‘‘

The post حالات کی ٹھوکروں سے ’’کِک‘‘ لگانے تک appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2tSKbjK
via IFTTT

Self magazine features plus-size model Tess Holliday on first digital cover

Self magazine debuted its first digital cover this week, which showed plus-size model Tess Holliday and told readers that her “health is none of your business.”

from FOX News https://ift.tt/2yVIyHR
via IFTTT

Penn & Teller postpone shows so Teller can undergo back surgery

The comedy and magic team of Penn & Teller announced this week that they are postponing performances until Aug. 18 so that Teller (the short, silent one) can undergo back surgery.

from FOX News https://ift.tt/2IFVP6O
via IFTTT

Clash between Patriot Prayer, Antifa members prompts police crackdown

A “freedom rally” in Portland, Ore., coordinated by the right-wing group Patriot Prayer was cut short Saturday after some of its supporters clashed with anti-fascist (antifa) counter-protesters.

from FOX News https://ift.tt/2KkH8M5
via IFTTT

Thai divers make little progress in murky cave search

Thai navy divers leading the search for 12 boys and their soccer coach in a cave have failed to make much headway in their effort to push through the murk of a kilometer- (half-mile-) long chamber to what is believed to be a clear area leading to where the missing may be sheltering, officials said.

from FOX News https://ift.tt/2KzeJ4g
via IFTTT

Police find 11 bodies, including 10 blindfolded, hanging from ceiling

Police in the Indian capital said Sunday they found 11 bodies in a village home in mysterious circumstances, 10 of them blindfolded and hanging from the ceiling.

from FOX News https://ift.tt/2tJdxS9
via IFTTT

John McLemore's Independence Day cookout

Chef John McLemore, author of "Dadgum That's Good, Too!", shares some delicious dishes for your Independence Day feast.

from FOX News https://ift.tt/2KCNXES
via IFTTT

Man killed by police was US Navy vet trying to break up fight, reports say

A man fatally shot outside a sports bar by Portland State University campus police Friday night was a U.S. Navy veteran and father of three who was trying to break up a fight, reports said.

from FOX News https://ift.tt/2IDTol7
via IFTTT

Mexico elections center on disgust with corruption, violence

Mexicans vote Sunday in a potentially transformative election that could put in power a firebrand vowing to end politics and business as usual in a country weary of spiraling violence, unchecked corruption and scandal-plagued politicians.

from FOX News https://ift.tt/2Knqvzt
via IFTTT

Meet the 4 candidates vying to become Mexico's president

Four candidates are in the race to become Mexico's next president in Sunday's election.

from FOX News https://ift.tt/2KBAIaP
via IFTTT

Maxine Waters brushes off alleged threats, vows to 'Impeach 45'

During a speech Saturday at an immigration rally in California, U.S. Rep. Maxine Waters reacted defiantly to alleged threats reportedly directed at her following her previous remarks about the Trump administration’s “zero tolerance” immigration policy.

from FOX News https://ift.tt/2MDiCCu
via IFTTT

Hi-tech dreamcatcher defeats sleep amnesia

The device designed to capture your dreams and offer more creative waking lives.

https://ift.tt/eA8V8J
from BBC News - Technology https://ift.tt/2MCg33M

Electric car buyers claim they were misled by Nissan

Nissan is accused of exaggerating the benefits of its latest Leaf electric car model.

https://ift.tt/eA8V8J
from BBC News - Technology https://ift.tt/2Kxj30F

Saturday, 30 June 2018

Good luck finding the phone, TV or console of your dreams - CNET

Parts the size of a grain of rice are in critically short supply.

from CNET News https://ift.tt/2KvsjWp
via IFTTT

Hulu's July 2018 lineup: Stephen King and J.J. Abrams team up on Castle Rock - CNET

We've got a brand-new series by two very high-profile names. Will it be any good? We'll find out soon.

from CNET News https://ift.tt/2tS3M3p
via IFTTT

Feds charge man with threatening to kill FCC Chairman Ajit Pai's family - CNET

He allegedly told authorities he was upset about the repeal of net neutrality.

from CNET News https://ift.tt/2Naehbb
via IFTTT

Comcast confirms major Xfinity outage nationwide - CNET

For a minute there, it looked like the whole internet was down.

from CNET News https://ift.tt/2KzKO8O
via IFTTT

California's new data privacy law the toughest in the US - CNET

Facebook and Google, take note.

from CNET News https://ift.tt/2KniQkD
via IFTTT

Tesla requiring $2,500 for Model 3 orders is nothing new - Roadshow

The automaker required the same for Model S and Model X orders, too.

from CNET News https://ift.tt/2tEczGU
via IFTTT

Your Samsung Galaxy phone may power two screens at once, with DeX dock - CNET

Also, the Galaxy Tab S4 is rumored to get DeX support.

from CNET News https://ift.tt/2tHPlQd
via IFTTT

Nintendo's enjoying a renaissance. Meet the man helping to keep it that way - CNET

Shinya Takahashi, Nintendo's planning and development head, spills secrets about why the company's pumping out so many good games lately.

from CNET News https://ift.tt/2MzNap0
via IFTTT

Big Dick Energy, thy name is Waluigi - CNET

Commentary: He who sparks a revolution without saying a word has BDE.

from CNET News https://ift.tt/2lFDn55
via IFTTT

Two Earth-like exoplanets now even better spots to look for life - CNET

Two of the earliest Earth-ish exoplanet finds are now more exciting targets in the search for habitable worlds beyond this rock.

from CNET News https://ift.tt/2ySl1Hu
via IFTTT

Subscription-only Volvo S60 Polestar Engineered sells out in under an hour - Roadshow

Not bad, considering its hefty monthly price tag.

from CNET News https://ift.tt/2lG1G2Z
via IFTTT

Rihanna and 'Ninja' among Time's most influential people on the Internet - CNET

Just admit it. We all love Rihanna. Kanye West and Naomi Watanabe also make the list of people dominating the internet.

from CNET News https://ift.tt/2KzeWkP
via IFTTT

Is it worth $129 to relive your NES Duck Hunt glory days? - CNET

Finally, that dusty old Zapper has a purpose again.

from CNET News https://ift.tt/2KuNN2j
via IFTTT

US government says it will detain migrant children with parents

US government says it will detain migrant children with parents

WASHINGTON: The U.S. government said in a court filing on Friday that it has the right to detain children and parents caught crossing the U.S. border illegally for the duration of their immigration proceedings.

A 1997 court settlement known as the Flores agreement has generally been interpreted to require the Department of Homeland Security to release illegal immigrant children from custody after 20 days.

But Justice Department lawyers said in the filing in U.S. District Court in California on Friday that they now have no choice but to hold children for as long as it takes to resolve their immigration cases, because of a preliminary injunction issued on Tuesday in a separate immigration case.

That case, brought by the American Civil Liberties Union in San Diego, challenged the recent government policy of separating families in order to detain parents for as long as necessary under President Donald Trump’s “zero-tolerance” policy.

Since that policy was implemented in May, families have been routinely separated after apprehension. Some 2,000 separated children are currently under government care.

An executive order issued by Trump this month reversed the policy, and the subsequent injunction in San Diego ordered the government to immediately stop separating parents and children and said families must be reunited in 30 days or less.

To comply with the injunction, the government said Friday it “will not separate families but detain families together during the pendency of immigration proceedings.” Cases can sometimes take months or years to resolve.

Under previous administrations, parents and children were often released to pursue immigration claims at liberty in the United States. Trump has decried that so-called catch-and-release policy and vowed to detain immigration violators.

The post US government says it will detain migrant children with parents appeared first on ARYNEWS.



from ARYNEWS https://ift.tt/2yWd989
via IFTTT